اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، طالبان حکومت کی مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں بدھ کو یکم محرم الحرام ہوگا۔
کمیٹی نے منگل (26 جوزا) کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ پیر کی شام افغانستان کے کسی بھی صوبے میں محرم کا چاند نظر نہیں آیا اور نہ ہی کسی شخص نے شرعی عدالتوں میں رویتِ ہلال کی گواہی دی، لہٰذا بدھ کو محرم الحرام کا پہلا دن قرار دیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران سمیت بیشتر ممالک نے منگل کو یکم محرم قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں میں، خواہ طالبان کا دورِ حکومت ہو یا اس سے قبل جمہوری حکومتوں کا زمانہ، محرم الحرام کے آغاز اور عزاداری کے ایام کے تعین میں افغان حکومت براہِ راست مداخلت نہیں کرتی تھی، بلکہ یہ معاملہ افغانستان کے شیعہ عوام اور ان کے مذہبی مراکز کے سپرد رہتا تھا۔
اسی تناظر میں طالبان حکومت کی وزارتِ حج و اوقاف کے شعبۂ مساجد و حسینیات کے سربراہ، محمد آصف مصباح نے بھی بدھ کو یکم محرم قرار دینے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے علماء اور مبلغین کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا کہ بدھ کو یکم محرم قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا، کیونکہ اس صورت میں عاشورائے حسینی جمعہ کے روز واقع ہوگا۔
محمد آصف مصباح کے مطابق علماء کونسل نے بھی یہی فیصلہ کیا تھا کہ محرم الحرام کے آغاز کے سلسلے میں طالبان حکومت کے سرکاری اعلان کی پیروی کی جائے۔
پس منظر
افغانستان میں محرم الحرام اور عاشورہ کے ایام کی تعیین ماضی میں عموماً شیعہ علماء اور مذہبی اداروں کی جانب سے کی جاتی رہی ہے۔ تاہم اس سال طالبان حکومت کی جانب سے براہِ راست تاریخ کے اعلان نے اس مسئلے کو ایک نئی جہت دے دی ہے، جس پر مختلف مذہبی حلقوں میں بحث جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ